اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مشرق وسطی کی خطرناک صورت حال
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ایران کے مذاکراتی عمل کی بحالی کے حوالے لچک نہ دکھانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا لہجہ مسلسل سخت ہوتا جارہا ہے ان کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری کارروائیوں کو تین گنا بڑھانے اور اس اہم بحری گزر گاہ کی ناکہ بندی مزید سخت کرنے کے اعلان نے مذاکراتی عمل کی بحالی کے امکانات کو محدود خطے میں مجموعی صورت حال کو کشیدہ اور عالمی توانائی بحران کو مزید شدت کی جانب دھکیل دیا ہے دنیا کے بڑے تجارتی راستوں میں ایک آبنائے ہرمز کی دو طرفہ بندش عالمی نہ صرف عالمی معیشت کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہورہی ہے بلکہ کھلے سمندروں میں کارگو جہازوں پر حملوں کی نئی جارحانہ حکمت عملی دنیا کو ایک ایسے نئے بحران میں مبتلا کرتی جارہی ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے تعطل نے مالیاتی منڈیوں کو غیر یقینی صورت حال میں ڈال دیا ہے توانائی کے بحران کے حل کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ رہی ہیں لیکن ساتھ ہی لڑائی وقتی طور پر رکنے کے باعث کچھ بازاروں میں حصص کی قیمتیں تیزی سے اوپر بھی گئی ہیں برینٹ کروڈ کی قیمت جمعرات کے روز 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 103.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ایس اینڈ پی گلوبل پی ایم آئی انڈیکس بتاتا ہے کہ یورپی معیشت 16 ماہ میں پہلی بار سکڑ گئی ہے الغرض امریکہ اور ایران کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کایہ اقدام عالمی امن کے لئے ایک سنگین خطرہ بن کر سامنے آرہا ہے خلیج عمان اور خلیج فارس کے پانیوں پر قبضے کی جنگ نے عالمی برادری کو اس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری انسانیت کو توانائی اور خوراک کے بد ترین بحران میں مبتلا کر سکتا ہے عالمی برادری کی اکثریت کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتی کیونکہ اگر فریقین کے درمیان مزید تناؤ بڑھتا ہے اور حالات خرابی کی جانب جاتے ہیں تو لامحالہ اس کے اقتصادی اثرات پاکستان اور دیگر ملکوں پر پڑنے سے چیلنج بڑھ جائیں گے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اہم ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کم کرنے کے لئے سفارتی راستہ اختیار اور ناکہ بندی جیسے اقدامات پر نظر ثانی کی جائے پاکستان بھی اس تناظر میں پس پردہ سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کیلئے جاری سفارتی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق وسطی میں امن کے قیام کیلئے اپنی کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری رکھے گا اور علاقائی استحکام کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا قیام امن کی کوششیں جاری ہیں پر امید ہیں کہ امریکا اور ایران کو جلد مذاکرات کی میز پر لائیں گےایوان وزیر اعظم میں ایرانی اور چینی سفیروں سے ملاقاتوں کو بھی سفارتی سلسلے کی کڑی قرار دیا جارہا ہے کہ تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں اپنے اپنے موقف پر سختی سے قائم ہیں دونوں ممالک کو خود پر بہت زعم اور غرور بھی ہے جو معاملات کو سلجھانے میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے واشنگٹن تہران پر ننگی جارحیت کے باوجود وہ اہداف حاصل نہیں کر سکا جو صدر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں بیان کئے تھے جبکہ سفارتی رابطے بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے پارہے جس کے باعث امریکی قیادت میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے موجودہ صورت حال میں امریکہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ اگر وہ تمام تر ننگی جارحیت کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا تو یہ ہزیمت اس کی عالمی حیثیت کو ضرور متاثر کرے گی اور طاقت کا مرکز خود بخود مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہوجائے گا اور امریکی مقتدرہ شاید ایسا کسی قیمت پر نہیں ہونے دے گی اور یہی وہ خطرہ ہے جو پوری دنیا کے امن کو تہہ و بالا کرسکتا ہے امریکیوں کے نزدیک اپنے مفادات اہم ہیں جس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں دوسری جانب ایرانی قوم کواپنی پانچ ہزار سالہ تاریخ بہت فخر بلکہ غرور ہے افغانوں کی طرح وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں شکست نہیں دی جا سکتی یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ایک دھمکی تو ایرانی جوابا دو دھمکیاں دیتے ہیں دونوں ممالک کی قیادت کی ان دھمکیوں میں پوری دنیا قیدی بن کر رہ گئی ہے جنگیں کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں یہ اپنے پیچھے تباہی بربادی اور نفرتوں کی ایسی آگ چھوڑ جاتی ہیں جنہیں ٹھنڈا کرنے میں صدیاں بیت جاتی ہیں دنیا آج ایک بارپھر اسی دہلیز پر کھڑی ہے جہاں بارود کی بو اور دھوئیں کے بادل انتہائی تیز رفتاری کے سا تھ امن کی ہر امید کو دھندلاتے جارہے ہیں امریکہ اور ایران یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں کہ عالمی بساط پر انا ضد اور ہٹ دھرمی کی قیمت ملکوں اور قوموں کو اجتماعی طور پر چکانا پڑتی ہے لہذا فریقین کو سمجھنا ہو گا کہ لچک کا مطلب کمزوری نہیں بلکہ دانش مندی ہوتا ہے آبنائے ہرمز کا مسئلہ اب محض علاقائی نہیں رہا بلکہ ایک عالمی تنازع کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے اور اس کا حل براہ راست فریقین کے درمیان بات چیت یاپھر کسی بڑے عالمی دباؤ کے ذریعے ہی ممکن ہے پاکستان سمیت بعض علاقائی قوتیں ثالثی کے طور پر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار امریکہ کے طرز عمل اور ایران کی پالیسی میں ممکنہ لچک پر ہے ایرانی قیادت کو بھی موجودہ مشکل صورت حال میں یہ سوچنا ہوگا کہ اس کی اب تک کی حکمت عملی نے ایرانی عوام کو کیا دیا ایران عراق جنگ سے اسے کیا ملا’ ایران کو اپنے طرز عمل کو تبدیل اور جذباتی کے بجائے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنا ہوگا اس حوالے سے ایرانی قیادت پاکستان سے سبق سیکھ سکتی ہے ایران اور امریکہ میں بڑھتی کشیدگی پر مزید خاموشی پورے خطے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیلی کرسکتی ہے ‘اب بھی وقت ہے عالمی برادری اس کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کو اپنا اولین ترجیح بنائے اور دونوں ممالک میں مذاکرات کے دوسرے دور کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کے لئے ساز گار حالات پیدا کئے جائیں**

