اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیراعظم پاکستان ، فیلڈ مارشل خطے میں امن کیلئے کوشاں
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) وزیراعظم پاکستان ، فیلڈ مارشل خطے میں امن کیلئے کوشاں ہیں۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزراء نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ سینئر پاکستانی سفارتی نامہ نگار اصغر علی مبارک کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حملوں کے بعد بھی پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں اور فریقین کو مذاکرات کیلئے میز پر لانے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ سی این این کے مطابق پاکستانی قیادت سفارتی رابطوں میں پیشرفت کیلئے سرتوڑ محنت کررہی ہے، پاکستان فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دوسری جانب وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست سفارتکاری معطل کردی ہے ،صدر ٹرمپ کی جانب سے نئی دھمکیوں کے بعد ایران نے یہ فیصلہ کیا، ایران کے فیصلے سے مذاکرات کی کوششوں میں پیچیدگی آئی ہے۔ ایرانی عہدیدار کا کہناتھا کہ ایران نے رابطے منقطع کر کے اپنی ناپسندیدگی اور مزاحمت کا پیغام دینا چاہا۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ڈیڈ لائن سے پہلے براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے یا نہیں۔اسی طرح فاکس نیوز نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، امریکی عہدیدار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے رابطے میں ہیں، ہم خوش قسمت رہے تو آج کوئی معاہدہ ہوگا۔اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران پر حملوں سے متعلق ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی،خارگ کے جزیرے میں فوجی تنصیبات پر حملہ کیا آئل تنصیبات نہیں، خارگ پر بمباری ہماری اسٹریٹجی میں تبدیلی کو ظاہر نہیں کرتا، ڈیڈ لائن سے پہلے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق قرار داد کو چین نے ویٹو کردیاہے , بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد کو سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت کی حمایت حاصل تھی۔ قرار داد کے حق میں گیارہ ووٹ ڈالے گئے، چین سمیت دو ارکان نے مخالفت کی جبکہ پاکستان سمیت دو ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ رپورٹ کے مطابق قرار داد کے مسودے میں آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کےتحفظ پر زور دیا گیا تھا جبکہ اس مقصد کیلئے طاقت کے استعمال کا ذکرشامل نہیں تھا۔ چند دن پہلے چین اور روس نے اس قرار داد پر ووٹنگ رکوادی تھی۔ پاکستان کی حالیہ پیش رفت کے حوالے سے اہم نکات درج ذیل ہیں:
ثالثی کا کردار: پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہے، تاکہ دنیا کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔
جنگ بندی کی کوششیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔قومی سلامتی: وفاقی وزراء کے مطابق، ان کوششوں کا مقصد پاکستان کے عالمی امیج کو بہتر بنانا اور قومی سلامتی پر سمجھوتہ کیے بغیر امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
پاکستان کی ان کاوشوں کی بدولت اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس فعال کردار کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ سعودیہ پر حملے قابلِ مذمت ہیں، ایران تنازع کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچارہا ہے۔آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل وچیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈر ز کانفرنس ہوئی۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر کانفرنس میں کہا گیا کہ سعودی عرب پر حملے ایک غیر ضروری کشیدگی ہے جب کہ شرکا نے سعودی پر پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملے کی شدید مذمت کی۔ فورم میں کہا گیا تھا ایران کے سعودی عرب پر حملے تنازع کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، سعودی عرب نے اب تک جس تحمل کا مظاہرہ کیا اِس سے ثالثی اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہوئی، بلا جواز جارحیت جاری پرامن کوششوں اور سازگار ماحول کو سنگین طریقے سے متاثر کرتی ہے۔ فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے معصوم شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی اور شہداء کی بے مثال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اِس بات کا اعادہ کیا کہ شہداء کی لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی اساس ہے۔
فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی مسلح افواج کی غیر متزلزل پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل کارکردگی، دفاع وطن کے لئے پائیدار انٹیلی جنس کی بنیاد پر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ثابت قدمی کو سراہا۔
فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ حکومت، مسلح افواج ، عوام کے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے پاکستان اپنی سکیورٹی کے حوالے سے کامیابیوں کو مزید مستحکم، معاشی استحکام کو مضبوط اور علاقائی و عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو بہتر بنانے میں گامزن ہے۔ شرکا کانفرنس کا کہنا تھا کہ بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستوں کی ایما پر کام کرنے والے تمام دہشت گرد پراکسی عناصر، اُن کے سہولت کاروں اور معاونین سمیت، بلا امتیاز اور مسلسل تعاقب کے ذریعے ختم کیے جائیں گے۔فورم نے کہا ہے کہ آپریشن غضب لِلحق کی رفتار برقرار رکھی جائے گی یہاں تک کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ ہو جائے اور پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو فیصلہ کن طور پر مکمل ختم نہ کر دیا جائے۔شرکا کانفرنس نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے حکومت کی بھرپور کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان متحمل مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور اُصولی سفارت کاری کیلئے پرعزم ہے، ایک ذمہ دار سٹیک ہولڈر کے طور پر پاکستان علاقائی سلامتی کے استحکام کے طور پر فعال ریجنل سکیورٹی سٹیبلائزر کا کردار ادا کر رہا ہے۔اِسی طرح فورم نے بھارت کی جانب سے منسوب مسلسل گمراہ کن معلومات، بے بنیاد الزامات اور جھوٹے فلیگ آپریشنز کے بیانیے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اِس طرح کے ہتھکنڈے عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔فورم میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت اموات چھپانےاور جعلی مقابلوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا جب کہ کانفرنس کے اختتام پر فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کمانڈرز کو آپریشنل تیاری، نظم و ضبط، تربیت، جسمانی فٹنس، نئی جدتیں اور میدان جنگ میں پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔علاوہ ازیں فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز نے مسلح افواج کی ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اس دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ میں خطاب کے دوران واضح کیا کہ حکومت اور عسکری قیادت کا محور علاقائی استحکام اور ذمہ دارانہ سفارتکاری ہے۔ نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب ایران پر حملہ ہوا تو میں مدینہ منورہ میں تھا، میں نے وہاں سے کہا کہ فوراً پاکستان ایران پر حملے کی مذمت کرے۔پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا نے جس نے ایران پر حملے کی مذمت کی، حملے کے کچھ دیر بعد ایران کے وزیرِ خارجہ عراقچی سے رابطہ کیا، ایران پر حملے کے 3 یا 4 گھنٹے میں قریبی ممالک پر سٹرائیک شروع ہو گئی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس معاملے پر سعودیہ، مصر، ترکی اور پاکستان کی میٹنگ ہوئی، دونوں پارٹیوں نے اسلام آباد میں میٹنگ پر گرین سگنل دیا، چاروں ممالک کی میٹنگ پہلے استنبول میں ہونی تھی جو میں نے اسلام آباد میں رکھوائی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے کی صورتحال پر چینی وزیر اعظم نے 31 مارچ کو مجھے چائنہ بُلایا، ہم دونوں ممالک نے پانچ پوائنٹس طے کیے، درجنوں ممالک نے ہمارے ساتھ اپنی سپورٹ کا اظہار کیا۔یو این کے سیکرٹری جنرل نے مجھے فون کیا اور ہماری کوششوں کو سراہا۔ امریکہ نے 15 پوائنٹس کی لسٹ دی جو ہم نے ایران کو دی، ایران نے پانچ پوائنٹس کی لسٹ دی، کل بہت خطرناک پیش رفت ہوئی اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جواب میں ایران نے سعودیہ کے علاقے جبیل پر حملہ کر دیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ کل رات سے پہلے میں بہت پُر امید تھا، اس معاملے پر میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، وزیر اعظم ، فیلڈ مارشل اور دفترِ خارجہ خطے میں امن کے لیے کوشاں ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ کے شعلے روکنے کیلئے فیلڈمارشل کا کردار کلیدی ہے ، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں گے ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب اور دیگر ممالک کے وزرا خارجہ سے کئی مرتبہ گفتگو کی، وہ بہت محنت کر رہے ہیں، انہوں نے چین کا دورہ کیا، انہیں بازو پر چوٹ بھی آئی لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی، پاکستان جنگ بندی کیلئے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے، اللہ کی مہربانی سے خطے میں امن قائم ہو گا۔خطے میں جنگی صورتحال کے باعث معاشی مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور مل کر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی، وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے،ہمیں شہادتوں پر بہت افسوس ہے، ہم نے اپنے تعزیتی پیغامات مختلف اوقات میں جاری کئے، خطے میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلئے پاکستان نے مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر بھرپور کوششیں کی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسی طرح چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان نے جنگ بندی کرانے کیلئے حتی المقدور کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کی طرح اس جنگ سے بہت متاثر ہو رہا ہے، معاشی ترقی کیلئے ہم سب نے پچھلے دو سال کے دوران مل کر بہت کاوشیں کی ہیں اور پاکستان کی معیشت کو میکرو سطح پر مستحکم بنا دیا ہے، اس وقت ترقی و خوشحالی کا وقت آ چکا ہے لیکن بدقسمتی سے اس جنگ کی وجہ سے ہمیں معاشی طور پر بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ہمارے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے، آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے بھی پیشرفت ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا تو پہلے ہفتے میں ہمیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ کرنا پڑا، پاکستان کے محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کیلئے یہ بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اس کو برداشت کیا، اجتماعی اور بھرپور کاوشوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے، کابینہ کے ارکان نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا، تیل کی کھپت میں 50 فیصد کی کٹوتی کی گئی، پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی اس میں حصہ ڈالا، تیل کی بچت کیلئے 60 فیصد گاڑیوں کا استعمال بند کر دیا گیا۔دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نےنئےبجٹ سے قبل منی بجٹ لانے کی خبروں کو مسترد کردیا,مئی کے آخری ہفتے میں بجٹ پیش کرنےکی تجویزمسترد،نئےمالی سال کا بجٹ جون کےپہلےیا دوسرے ہفتے میں لائے جانےکا امکان ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نےمنی بجٹ کےذریعے مختلف ٹیکس کی تجاویز مسترد کردیں،وزیراعظم کومشرق وسطی کی کشیدگی کے باعث ٹیکس آمدن بڑھانے کےلیےتجاویز پیش کی گئیں، جس پر انہوں نے کسی بھی نئے ٹیکس لگانے یا ٹیکس ریٹ بڑھانےکی تجویز مسترد کر دی ہیں۔ وزیراعظم کاکہنا ہےکہ تیل کی قیمتوں سےعوام پریشان،مزیدٹیکس لگانے یامنی بجٹ لانےکا مت سوچیں، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کے باعث بجٹ تجاویز میں مفصل مشاورت کا حکم دیا ہے،آئی ایم ایف کومشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کےپیش نظراہداف پرنظرثانی کیلئےمنانےکی تجویز سامنے آئی ہے۔ ذرائع کےمطابق آئندہ بجٹ کی ترجیحات حالات کےمطابق تبدیل کیےجانےکاامکان ہے،آئندہ بجٹ میں افراط زر،مالیاتی خسارے سمیت اہم اہداف متاثرہونےکا خدشہ ہے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکی 3 سالہ بجٹ حکمت عملی سے اہداف بری طرح متاثرہوسکتے ہیں۔
قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ۔پی ایم ہاؤس اعلامیے کے مطابق محمد شہباز شریف نے مملکتِ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔وزیرِ اعظم نے جاری حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور سعودی عرب میں الجبیل آئل فسیلیٹی پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ انہوں نے ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہمیشہ اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، جس طرح سعودی قیادت اور عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔شہبا زشریف نے موجودہ کشیدگی کے دوران سعودی قیادت کی جانب سے تحمل اور دانشمندی کے مظاہرے کو سراہا اور کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر امن کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے بھی ولی عہد کو آگاہ اور خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں اور پرتپاک سلام کا اظہار بھی کیا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہاہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کی خور فکان بندرگاہ کی جانب فائر کیے گئے میزائل، پروجیکٹائل دوران پاکستانی شہریوں سمیت دیگر کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا شہباز شریف نےایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ہم اپنے شہریوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے اماراتی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں۔ ایک مرتبہ پھر کہا کہ کہ پاکستان، متحدہ عرب امارات کے برادر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور خطے میں تحمل اور کشیدگی کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔ اماراتی میڈیا آفس نے بندرگاہ پر حملے کے بارے میں بتایا تھا کہ کامیاب فضائی دفاعی انٹرسپشن سے گرنے والا ملبہ بندرگاہ پر آگ کا باعث بنا جس سے ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے کنٹرول کر لیا اور اس دوران ایک نیپالی شہری شدید زخمی ہوا جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ تین پاکستانی پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون روکے ہیں، فضائی دفاعی نظام فعال طور پر میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔دوسری طرفچینی دفتر خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ چین جنگ بندی کے لیے پاکستانی کردار کی حمایت کرتا ہے، امید ہے فریقین امن کا موقع ضائع نہیں کریں گے۔ ماؤ ننگ نے کہا کہ بیجنگ امن کے حصول میں مددگار تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے،مذاکراتی عمل کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے فعال کردار کو سراہتے ہیں۔ چینی دفتر خارجہ نے زور دیا کہ فریقین اختلافات کو بات چیت کے ذریعے ختم کریں۔ادھر پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ نگ کو روکنے کے لیے نیک نیتی اور ثالثی کے تحت پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں ایک اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چُکی ہیں۔قبل ازیں ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے یہ خبر آئی کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کے مقصد سے پاکستان کو امن تجاویز پیش کی ہیں۔ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنہیں جمع کرانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، جسے دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا۔ تاہم، اب جبکہ ہم نے مکمل رجیم تبدیل کردی ہے ، جہاں مختلف، زیادہ ذہین اور کم انتہا پسند سوچ رکھنے والے لوگ غالب ہوں گے، تو شاید کوئی انقلابی اور شاندار چیز وقوع پذیر ہو جائے۔ ٹرمپ نے لکھا کہ یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ہو سکتا ہے، خونریزی، بدعنوانی اور اموات کی 47 سالہ تاریخ بالآخرختم ہونے جارہی ہے، ایران کے عظیم عوام پر خدا کی رحمت ہو!.

