LOADING

Type to search

Islamabad National

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پیٹرولیم بحران اور تعلیمی ادارے بند جبکہ والدین دوہری مشکل کی زد میں

Share

اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں کمی اور حالیہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو مفلوج کیا ہے، وہیں تعلیمی نظام ایک بار پھر “بندش” کا شکار ہو گیا ہے۔حکومت کی جانب سے فیول بچانے یا ٹرانسپورٹ کے مسائل کے پیشِ نظر تعلیم مراکز کی چھٹیوں کا اعلان تو کر دیا گیا، لیکن اس فیصلے نے والدین کے لیے نئے مالی اور تعلیمی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔فیسوں کا بوجھ ویسے کا ویسا جب سکول بند ہوں تو ادائیگی کیوں؟ والدین کا سب سے بڑا گلہ یہ ہے کہ جب بچے گھروں پر بیٹھے ہیں اور سکول، کالجز، یونیورسٹیز کی عمارت، بجلی اور دیگر سہولیات استعمال نہیں ہو رہیں، تو ماہانہ فیسوں میں رعایت کیوں نہیں دی جاتی؟ پرائیویٹ تعلیمی مراکز مالکان کا موقف ہوتا ہے کہ انہیں اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرنی ہیں، لیکن والدین کا سوال بھی اپنی جگہ جائز ہے کہ معاشی بحران کے اس دور میں تمام بوجھ صرف ان کے کندھوں پر ہی کیوں ڈالا جا رہا ہے ایک طرف بھاری فیسیں دوسری جانب ٹرانسپورٹ کے اخراجات جبکہ استعمال صفر، اور ادائیگی پوری
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو ٹرانسپورٹ کے اخراجات ہیں۔ پیٹرول کی کمی کی وجہ سے بچے سکول نہیں جا رہے، وینز اور بسیں گھروں میں کھڑی ہیں، لیکن ٹرانسپورٹ مالکان پورے مہینے کا کرایہ وصول کر رہے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ جب پیٹرول استعمال ہی نہیں ہوا تو اس کی قیمت کس بات کی؟۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اس صورتحال میں والدین شدید مالی دباؤ اور بچوں کے تعلیمی حرج کی وجہ سے پریشان ہیں۔ طلبا تعلیمی تسلسل ٹوٹنے سے سیکھنے کے عمل میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ سکول انتظامیہ بندش کے باوجود مکمل فیسیں وصول کر کے مالی طور پر محفوظ رہتی ہے۔
تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ ایک ایسا کاروبار بنتی نظر آ رہی ہے جہاں گاہک (والدین) سے پیسے تو پورے لیے جاتے ہیں لیکن سہولت ضرورت کے وقت چھین لی جاتی ہے۔حکومت اس پر نوٹس لے حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی مراکز کی بندش کی صورت میں ایسی حکمت عملی بنائے کہ والدین کو مالی پریشانیوں سے نکال سکے۔ فیسوں میں کمی کی جائے سکول بند ہونے کی صورت میں ٹیوشن فیس میں کم از کم 40 سے 50 فیصد کمی کی جائے۔ ٹرانسپورٹ کے لیے پالیسی بنائی جائے ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو صرف ان دنوں تک محدود کیا جائے جب بچے سکول جائیں۔ آن لائن تعلیم کا معیار برقرار رکھنے کے لیے مکمل نظام بنایا جائے اگر سکول بند ہیں تو آن لائن کلاسز کو محض کھانا پوری کے بجائے باقاعدہ نظام کے تحت چلایا جائے تاکہ والدین کو فیس کی ادائیگی کا دکھ نہ ہو۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کا بحران عالمی اور ملکی وجوہات کی بنا پر ہو سکتا ہے، لیکن اس کی قیمت صرف والدین کو نہیں چکانی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارتِ تعلیم اور متعلقہ حکام مداخلت کریں اور نجی تعلیمی اداروں کو پابند کریں کہ وہ اس مشکل گھڑی میں والدین کا ساتھ دیں، نہ کہ ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھائیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »