اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) مشرقِ وسطیٰ بحران کے دہانے پر: ایران، امریکا اور اسرائیل جنگ کے 25 دن اور امن کی سفارتی کوششیں
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اپنے 25ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور اب یہ محض ایک محدود فوجی تصادم نہیں بلکہ ایک طویل، پیچیدہ اور خطرناک علاقائی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس تناظر میں ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان نے اس جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست گفتگو کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے رابطہ کیا اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کی۔ یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ابتدائی دنوں میں تیز رفتار حملوں اور جوابی کارروائیوں سے شروع ہونے والا یہ تنازع اب ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاست، معیشت اور سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال ایک خطرناک تعطل کی عکاسی کرتی ہے جہاں کسی بھی فریق کو فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہو سکی۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل فضائی حملوں اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانے کے باوجود ایران نے بھرپور جوابی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ جنگ یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں جانب سے مزاحمت جاری ہے۔ اسی طرح اسرائیل بھی ایران کے اندر اہم فوجی اور دفاعی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم کوئی فیصلہ کن نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔
اس جنگ کا ایک تشویشناک پہلو اس کا بڑھتا ہوا تکنیکی اور انسانی نقصان ہے۔ جدید ہتھیاروں کے استعمال نے نہ صرف دفاعی نظاموں کو چیلنج کیا ہے بلکہ شہری آبادیوں کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
معاشی سطح پر بھی اس جنگ کے اثرات شدید ہیں۔ خلیج میں توانائی کے اہم راستوں پر خطرات کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور توانائی کی فراہمی کے خدشات نے عالمی معیشت کو دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے اثرات خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
سفارتی سطح پر اگرچہ تضادات موجود ہیں، تاہم ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکیہ اور مصر بھی جنگ بندی کے لیے سرگرم ہیں اور پس پردہ مذاکرات کے ذریعے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان مشترکہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بعض مواقع پر حملوں میں عارضی وقفے اور مذاکرات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ جنگ کے باوجود امن کی راہیں مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں۔
اس جنگ کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ مزید قوتیں اس تنازع میں شامل ہو سکتی ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس جنگ کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آتا۔ دونوں جانب سے کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ کوئی فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی جامع حکمتِ عملی سامنے آئی ہے جو اس تنازع کو ختم کر سکے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس صورتحال کے اثرات انتہائی اہم ہیں، مگر اسی کے ساتھ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مرکز کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے، جو اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔
25 دن گزرنے کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ صرف فوجی طاقت اس مسئلے کا حل نہیں۔ اس جنگ کی انسانی، معاشی اور سیاسی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ کسی واضح نتیجے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ عملی اقدامات کے ذریعے جنگ بندی اور مذاکرات کو یقینی بنائے۔
اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ تنازع نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم پاکستان، ترکیہ اور مصر کی جانب سے جاری سفارتی کوششیں ایک امید کی کرن ہیں کہ اگر سنجیدہ اور بروقت اقدامات کیے جائیں تو اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے اور خطے کو ایک بڑے سانحے سے بچایا جا سکتا ہے۔

