LOADING

Type to search

International

تہران، ریاض، واشنگٹن (ڈیجیٹل پوسٹ) پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کے جوابی حملے، خلیج میں توانائی تنصیبات پر میزائل داغ دیے،گیس و تیل مراکز متاثر

Share

تہران، ریاض، واشنگٹن (ڈیجیٹل پوسٹ): مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بیسویں روز ایران ایران نے حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت حملوں کی 63 ویں لہر میں خطے میں امریکا سے منسلک تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، قطر کے راس لفاس انڈسٹریل سٹی میں آگ لگ گئی، ایرانی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
پاسداران انقلاب نے کارروائی کو امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید وزیرِ انٹیلی جنس اور دیگر انٹیلی جنس اہلکاروں کے نام منسوب کیا۔

پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ وہ جنگ کو تیل کی تنصیبات تک پھیلانا نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی دوست اور ہمسایہ ممالک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کا ارادہ تھا، تاہم ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

پاسداران انقلاب کے مطابق اپنے تنصیبات کے دفاع کے لیے امریکا اور امریکی شیئر ہولڈرز توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال پر عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا سعودی دارالحکومت ریاض میں اجلاس ہوا جہاں علاقائی سلامتی اور استحکام کو سپورٹ کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ ‏سعودی عرب ایران حملوں کے بعد فوجی کارروائی کاحق محفوظ رکھتا ہے۔

عرب اور اسلامی ممالک کے مشاورتی اجلاس کے اعلامیے میں خطے پر ایرانی حملوں کی پُرزور مذمت کی گئی۔

اعلامیہ کے مطابق ایران خلیجی ممالک کے سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے، ایران ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات،سفارتخانوں اورعوامی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ حملے کسی صورت جائز نہیں، اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق خلیجی ریاستوں کو دفاع کا حق حاصل ہے۔

اعلامیے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اورہمسایہ ممالک کا احترام کرے اورفوری طور پر حملے روکے۔

اعلامیے میں کہا گیا ایران خطے کے امن اور استحکام کو یقینی بنائے، اعلامیے میں ایران سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے اور عالمی تجارت میں خلل پیدا نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے پیغام مل گیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند کی گئی تو دوبارہ حملے ہو سکتے ہیں، فی الحال انہوں نے توانائی کی تنصیبات پر مزید حملے کرنے سے روک دیا ہے۔

فرانسیسی صدر میکرون نے صدر ٹرمپ اور امیر قطر سے فون پر گفتگو کی ہے اور گیس فیلڈ حملوں کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

ایران اور قطر کی گیس فیلڈ پر حملوں کے بعد کروڈ آئل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، گیس کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو اب روکنا شاید ممکن نہ ہو

پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس سے کہا ہے کہ ایران جنگ کیلئے مزید 200 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر کو اتنی رقم کی منظوری میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ امریکی کانگریس کے ارکان اس میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے قطر کی راس لفان انڈسٹریل سٹی پر ایرانی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البداوی نے کہا کہ ایران کی یہ خطرناک جارحیت بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایرانی حملے ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہیں، ایرانی حملے علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق عراق میں ام القصر بندرگاہ کے قریب ڈرون حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، عراقی بحریہ کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا

اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل کے مرکز میں ایرانی ڈرون حملے میں ایک غیرملکی شہری ہلاک ہوگیا، خبر ایجنسی کے مطابق غیر ملکی شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

ابوظہبی کی حبشان گیس تنصیبات اورباب فیلڈ پرمیزائل کا ملبہ گرنے کے واقعات سامنے آئے۔

حکام نے بتایا کہ میزائل حملہ ناکام بنانےکے بعد گرنے والے ملبے سے تنصیبات متاثر ہوئیں، گیس تنصیبات حفاظتی اقدام کے طور پر عارضی طور پر بند کردی گئی، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاکستان ، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کو الگ الگ فون کیا، تینوں ر ہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں خطے کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ان الگ الگ رابطوں میں امریکا اور اسرائیل کی فوجی جارحیت پر تبادلہ خیال کیا گیا، امریکی اسرائیلی حملوں کے ایران اور علاقائی و عالمی اثرات پر بھی بات چیت کی گئی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے علاقائی ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

اسرائیلی حملے کے بعد 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار معطل ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ساؤتھ پارس فیلڈ ایران اور قطر کی مشترکہ ملکیت ہے ۔

ایران کے گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایران نے قطر کی گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جس پر قطر اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے، قطر نے ایرانی سفارتخانے کی کچھ شخصیات کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »