لاہور (ڈیجیٹل پوسٹ) لمز کو گیٹس فاونڈیشن کی جانب سے پاکستان کا پہلا قومی مصنوعی ذہانت مرکز قائم کرنے کے لیے بڑی گرانٹ منظور
Share
لاہور، 18مارچ،:2026 (ڈیجیٹل پوسٹ) لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے بڑی مالی گرانٹ کی منظوری دی گئی جس کے تحت پاکستان میں زچہ، نو مولود اور بچوں کی صحت کے لیے قومی سطح پر منسلک پہلا مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز قائم کیا جائے گا۔ یہ پاکستان کا عوامی صحت کے شعبے میں ایک تاریخی اقدام ہے، جس کا مقصد پاکستان کے ہسپتالوں اور دیہی صحت مراکز میں خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے اور فوری ریفرل کے لیے خطرات کی پیش گوئی کرنے والا اے آئی نظام متعارف کروانا ہے۔ اس مرکز کا آغاز خصوصی طور پر زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت (MNCH) پر توجہ کے ساتھ کیا جا رہا ہے، تاہم اسے ایک طویل المدتی قومی مرکزکے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو مستقبل میں پاکستان کو درپیش دیگر اہم ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مرحلہ وار وسعت اختیار کرے گا۔ اس اقدام کو لمز کے سید بابر علی اسکول آف سائنس اینڈ انجینئرنگ (SBASSE) کے ایڈوائزری بورڈ کی رکن، مبارک امام کی بھی معاونت حاصل ہے۔
یہ قومی اے آئی مرکز اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ پاکستان کی دو ممتاز تحقیقی جامعات، لمز اور آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو)، کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کر رہا ہے تاکہ زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت کو لاحق اہم چیلنج سے نمٹا جا سکے۔ لمز اپنی مصنوعی ذہانت کی مہارت، لینگویج ٹیکنالوجیز، جینڈر اورٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق، اور ڈیجیٹل پبلک ہیلتھ میں مہارت کو بروئے کار لائے گا، جبکہ آغا خان یونیورسٹی بڑے پیمانے پر زچہ کی صحت کے ڈیٹا سیٹس کی تیاری، طبی مہارت کی فراہمی، اور مختلف طبی مراکز میں جاری اے آئی پر مبنی جانچ اور نفاذ میں معاونت کرے گی۔ یہ مرکز پاکستان کی پسماندہ آبادیوں میں اے آئی پر مبنی صحت کے تحفظ کو وسعت دینے میں مدد دے گا۔یہ اقدام جہاں قومی سطح پر موثر تبدیلی لانے کا خواہاں ہے وہیں بروقت پیش گوئی پر مبنی تجزیات کے ذریعے احتیاطی تدابیر، ابتدائی تشخیص اور علاج کے تسلسل کوفروغ بھی دے گا۔
قومی اے آئی مرکز ڈاکٹر مریم مصطفیٰ کی قیادت میں قائم ہوگا، جو لمز کے سید بابر علی اسکول آف سائنس اینڈ انجینئرنگ میں کمپیوٹر سائنسز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں،جبکہ پروفیسر فیضہ جہاں، آغا خان یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف پیڈیئٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی چیئرپرسن ہیں جو کلینیکل حکمت عملی تیار کرنے او ر اسکے نفاذ کویقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ یہ اے آئی مرکز سرکاری اداروں، معالجین، اے آئی محققین، پالیسی سازوں اور جدت کاروں کو ایک مشتر کہ قومی پلیٹ فارم پر لائے گا تا کہ ابتدائی تشخیص،طبیعی فیصلہ سازی، مؤثر ریفرل کے نظام، اور خواتین ونو زائید ہ بچوں کے علاج کے تسلسل کو ملک بھر میں مضبوط بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر مریم مصطفی کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ لمز اور پاکستان دونوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہےٰ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مرکز کا آغاز ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت کے شعبے سے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہی وہ شعبہ ہے جہاں فوری توجہ کی اشد ضرورت ہے اور جہاں بروقت اقدامات کے ذریعے نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس عزم کا اظہاربھی کیا کہ ایک مضبوط، ذمہ دار اور قومی سطح پر مربوط مصنوعی ذہانت کے نظام کی بنیاد رکھی جائے، جو وقت کے ساتھ مختلف شعبوں تک وسعت اختیار کرے، تاکہ مستند معلومات اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلے کیے جا سکیں۔ مزید یہ کہ صحت، تعلیم اور دیگر سرکاری خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے اور ملک بھر میں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔
یہ قومی اقدام ڈاکٹر مریم مصطفیٰ کی سابقہ گرانٹ ”آوازِ صحت: صوتی ٹیکنالوجی پر مبنی الیکٹرانک ریکارڈ مینجمنٹ کے ذریعے زچہ صحت کو بااختیار بنانا” کی کامیابی پر مبنی ہے، جس میں یہ ظاہر کیا گیا کہ آواز پر مبنی ٹیکنالوجی اور کثیر لسانی انٹرفیس کم وسائل والے علاقوں میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے لیے مؤثر ہیں۔
محترمہ مبارک امام نے کہا، ”پاکستان کے پہلے قومی اے آئی مرکز کی معاونت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، جو لمز اور آغا خان یونیورسٹی کے درمیان ایک مثالی شراکت داری ہے۔ ماہر طبی مہارت تک محدود رسائی خواتین اور بچوں میں قابلِ تدارک اموات اور خراب صحت کے نتائج کی ایک بڑی وجہ ہے۔مصنوعی ذہانت عالمی معیار کے طبی علم کو ملک کے دور دراز علاقوں — استور سے زیارت تک — فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز تک پہنچا کر اس صورتِ حال کو بدل سکتی ہے۔ یہ مرکز اثر انگیزی کے لیے قائم کیا گیا ہے، جو محققین، معالجین اور کاروباری افراد کو پاکستان کے مشکل ترین چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائے گا، جس کا آغاز زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت سے ہوگا، اور گلوبل ساؤتھ کے لیے قابلِ توسیع ماڈلز تشکیل دیے جائیں گے۔”
پاکستان کو خطے میں زچہ اور نوزائیدہ بچوں کی سب سے زیادہ اموات، ہر ایک لاکھ زند ہ پیدائش پر 186 خواتین کی موت واقع ہوتی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں معیاری دوران حمل، زچگی اور بعد از زچگی نگہداشت تک محمد و در سائی، تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی، کمزور ریفرل نظام، اور خون کے شدید بہاؤ، ایکیپسیا اور سیپسس جیسی پیچیدگیوں کے بروقت علاج میں تا خیر شامل ہیں۔ صحت کے نظام پر دباؤ کا انداز ہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں ہر سات لاکھ پچاس ہزار افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے، جو عالمی ادارہ صحت کی ترقی پذیر ممالک کے لیے تجویز کردہ کم از کم تناسب ہر ایک ہزار افراد کے لیے ایک ڈاکٹر سے کہیں کم ہے۔ ان مسائل میں زبان اور خواندگی کی رکاوٹیں منتشر صحت ڈیٹا نظام، اور سماجی و معاشی عوامل مزید اضافہ کرتے ہیں، جو بر وقت علاج میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں۔
اے آئی حب ان خلا کو پُر کرنے کے لیے موجودہ نظامِ صحت کے اندر رہتے ہوئے اخلاقی، شواہد پر مبنی اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ مصنوعی ذہانت کے آلات متعارف کرائے گا، اور بروقت، جان بچانے والی معاونت اُن خواتین اور خاندانوں تک پہنچائے گا جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ کسی دور دراز گاؤں میں زندگی گزارنے والی ایک ماں کے لیے یہ اقدام حمل سے وابستہ مہلک پیچیدگیوں اور پوشیدہ طبی خطرات کی بروقت اور سائنسی بنیادوں پر نشاندہی کو یقینی بنا سکتا ہے، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری، منظم اور تیز رفتار ریفرل کے ذریعے جان بچانے والی طبی امداد تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔
عملی طور پر، یہ اقدام ایک دیہی علاقے میں فرسٹ لائن ہیلتھ ورکر کو اس قابل بنائے گا کہ وہ اے آئی ماڈل کی مدد سے خون کی کمی کا شکار حاملہ خاتون کی بر وقت نشاندہی کرے اور فوری طور پر خصوصی طبی سہولت کے لیے ریفرل ممکن بنائے، جس سے زچگی کے بعد شدید خون بہنے جیسی جان لیوا پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔ ایسے ابتدائی اقدامات قابلتلافی زچہ اموات میں نمایاں کمی لاسکتے ہیں۔ ز چہ اور نوزائیدہ بچوں کی صحت میں بہتری کے ساتھ ساتھ، یہ اقدام پاکستان کے مجموعی مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام کو بھی مضبوط کرے گا، جس میں استعداد سازی کے پروگرام، پالیسی سازی، اے آئی گورنس فریم ورکس، اور اسٹارٹ اپس و شراکت دار تنظیموں کی معاونت شامل ہے جو مصنوعی ذہانت اور زچہ صحت کے سنگم پر کام کر رہے ہیں۔ یہ پروگرام اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف 2030 کے تحت پاکستان کے زچہ اور نوزائیدہ اموات میں کمی کے عزم کو بر اہ ر است آگے بڑھاتا ہے۔
یہ تاریخی سرمایہ کاری پاکستان کو ان چندممالک کی صف میں شامل کرتی ہے جو قومی پر مرطوب اورذمہ دارمصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمزکے ذریعے زچہ،نومولوداور بچوں کی صحت کے چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں، اور یہ اقدام بین الاقوامی اثرات رکھنے والے انٹرسیکشن تحقیق، پالیسی سے جڑے جدت اور عملی قیادت میں لمز کے کردار کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت پر ابتدائی توجہ کے بعد، یہ اے آئی مرکز ایک قومی سطح کے ذمہ دار مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو مستقبل میں دیگر قومی ترجیحی شعبوں تک اپنی تکنیکی صلاحیت، گورننس فریم ورک اور بنیادی ڈھانچے کو وسعت دے گا۔ یہ اقدام گیٹس فاؤنڈیشن کے تحت افریقہ میں جاری اسی نوعیت کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے، جہاں روانڈا، نائجیریا، سینیگال اور کینیا میں قومی سطح کے اے آئی اسکیلنگ ہبز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں پختہ اے آئی حل کو قومی نظاموں میں ضم کیا جا سکے۔

