راولپنڈی (ڈیجیٹل پوسٹ) تھانہ وارث خان کے علاقے میں قائم موٹر سائیکل شوروم سے مبینہ طور پر 46 لاکھ 43 ہزار روپے مالیت کے 20 سے زائد موٹر سائیکل چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے
Share
راولپنڈی (ڈیجیٹل پوسٹ) تھانہ وارث خان کے علاقے میں قائم موٹر سائیکل شوروم سے مبینہ طور پر 46 لاکھ 43 ہزار روپے مالیت کے 20 سے زائد موٹر سائیکل چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے شوروم کے دو ملازمین سمیت چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ کا مقدمہ نمبر 113/26 بجرم 408 تعزیراتِ پاکستان تھانہ تھانہ وارث خان میں درج کیا گیا ہے۔مدعی مقدمہ علی اظہر ولد اقبال حسین، سکنہ چاہ سلطان راولپنڈی نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ سرکلر روڈ راولپنڈی میں قائم “علی خان آٹو کمپنی” کے نام سے موٹر سائیکل شوروم چلاتے ہیں جبکہ “کینگ علی موٹر سپورٹر پرائیویٹ لمیٹڈ” کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ مدعی کے مطابق شوروم پر ارسلان قیوم گزشتہ 12 سال سے اور یاسر اعجاز 16 سال سے ملازم تھے اور انہیں مکمل اعتماد کے ساتھ خرید و فروخت کا اختیار دے رکھا تھا۔درخواست کے مطابق 13 جنوری 2026 کو دونوں ملازمین نے معمول کے مطابق دکان کھولی اور ایک موٹر سائیکل شوروم سے نکال کر لے گئے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یاسر اعجاز نے موٹر سائیکل باہر کھڑی کی جبکہ ارسلان قیوم اسے اسٹارٹ کر کے لے گیا اور چند منٹ بعد اکیلا واپس آگیا۔مدعی نے شبہ ظاہر کیا کہ ملزمان موٹر سائیکلیں قریبی رشتہ دار کے گھر منتقل کرتے رہے۔جہاں سے انہیں فروخت کیا جاتا رہا۔مزید الزام عائد کیا گیا کہ ملزمان نے چوری شدہ موٹر سائیکلیں وحید نامی شخص کے حوالے کیں جس نے انہیں فروخت کر دیا۔مدعی کے مطابق 14 جنوری کو ریکارڈ چیک کرنے پر انکشاف ہوا کہ وقتاً فوقتاً شوروم سے 20 سے زائد موٹر سائیکلیں بمعہ کاغذات غائب کی گئیں۔جب ملازمین سے بازپرس کی گئی تو انہوں نے مبینہ طور پر چوری کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی، تاہم بعد ازاں شوروم سے غائب ہو گئے۔مدعی مقدمہ کا مزید کہنا تھا کہ یاسر اعجاز کا بھائی مبشر اعجاز بھی مبینہ طور پر اس واردات میں ملوث ہے۔مدعی نے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی اور چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی برآمدگی کی استدعا کی ہے۔پولیس کے مطابق مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور فراہم کردہ انجن و چیسز نمبرز کی مدد سے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

