اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) معیشت میں بہتری ائی ایم ایف کا اعتراف
Share
اسلام آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) عالمی مالیاتی فنڈنے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام ملا اصلاحات سے معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں سادگی اور سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت پرزوردیا ہے آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک کا کہنا ہے مالی سال 2025 میں پاکستان کی مالی کارکردگی مضبوط رہی جی ڈی پی کا 1.3 فیصد بنیادی مالیاتی سرپلس پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے پاکستان میں مہنگائی کی شرح قابو میں رہی جبکہ مالی سال 2025 میں ملک نے 14 سال بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکانٹ سرپلس بھی ریکارڈ کیا آئی ایم ایف پروگرام سے عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ حال ہی میں شائع کی گئی رپورٹ میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ملک کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور کاسہ گدائی توڑنے کے لئے جو کچھ کر رہی ہے وہ قابل ستائش ہے تین برس قبل کے مقابلے میں آج کے حالات خاصے بہتر ہیں ملکی معیشت پر چھائے مایوسی اور بے اعتمادی کے بادل دور ہونا ایسا واقعہ ہے جس کی توقع مشکل سے کی جاسکتی تھی2021 کے ابتدائی مہینوں میں تحریک انصاف حکومت کے دور میں ملک دیوالیہ پن کے دہانے پر تھا تاہم آج قومی معیشت میں بہتری کا رجحان ایسی حقیقت ہے جس کے ٹھوس ثبوت عالمی مالیاتی اداروں کے اقتصادی جائزوں کی شکل میں پوری دنیا کے سامنے ہے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان میں معیشت کی نمو کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے مگر جو معاشی خرابی کا دہانہ تھا وہ اب تک بند نہیں کیا گیا خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری ادارہ جاتی اصلاحات حکومتی اخراجات میں کمی اور ذرائع آمدن میں اضافے جیسے اقدامات کی افادیت کسی بھی دور میں کم نہیں ہوتی مگر یہ اقدامات حکومتی ترجیحات میں سب سے نیچے رہے ہیں پاکستان کو جدت مارکیٹنگ کے ساتھ ساتھ اپنے برآمدی شعبے کو بہتر بنانے کے لئے کثیر جہتی نکتہ نظر ساز گار پالیسیوں اور بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کی اشد ضرورت ہے اقتصادی ماہرین طویل عرصے سے ملک میں غیر مساوی ٹیکس نظام کے مضمرات کو اجاگر اور اسے درست کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ ملک میں بیشتر اہم معاشی و مالیاتی پالیسیاں طاقتور طبقوں کے مفاد میں یا ان کے دباؤ پر بنائی جاتی ہیں خواہ اس کے لئے قانون سازی کرنی پڑے یا قانون کو توڑنا دبانا ان نقصانات کو پورا کرنے کے لئے عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے ترقیاتی اخراجات وانسانی وسائل کی ترقی کے لئے کم رقوم مختص کی جاتی ہیں اور ملکی وبیرونی قرضوں پر بے تحاشا انحصار کیا جاتا ہے یہی نہیں طاقتور طبقوں بشمول ٹیکس چوری کرنے والوں قومی دولت لوٹنے والوں بینکوں سے اپنے قرضے غلط طریقوں سے معاف کرانے والوں پاکستان سے لوٹ کر یا ناجائز طریقوں سے حاصل کی ہوئی رقوم سے ملک کے اندر اثاثے بنانے یا ملک سے باہر اثاثے منتقل کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداور( جی ڈی پی) کا تقریبا 6 فیصد حصہ اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات پر صرف ہوتا ہے یہ رقم ساڑھے سترہ ارب ڈالرز کے لگ بھگ بنتی ہے کاروباری طبقے کی جانب سے لی جانے والی مراعات کا حجم تقریبا پونے پانچ ارب ڈالرز ہے ایک فیصد امیر ترین لوگ ملک کی مجموعی آمدنی کے نو فیصد کے مالک ہیں جبکہ جاگیر دار جو ملک کی آبادی کا ایک اعشاریہ ایک فیصد ہیں 22 فیصد قابل کاشت رقبے کے مالک ہیں اعداد وشمار یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان کے اندر واضح طور پر دو ریاستیں موجود ہیں ایک متوسط غریب اور پس ماندہ طبقات پر مشتمل اور دوسری وہ جس کا نہ صرف وسائل پر قبضہ ہے بلکہ اقتدار واختیار کی مختلف شکلیں بھی اسی کے زیر اثر ہیں اس لئے کوئی چاہ کر بھی ان کا کچھ نہیں بگا سکتا ہماری اشرافیہ اتنی طاقتور ہے کہ ملک کو اس کے مفادات پر قربان کیا جارہا ہے غریب عوام کو قربانی کا بکرا سمجھ کر آئے روز کند چھری سے ذبح کرنے والے حکمران اس کے خلاف بات کرنے کو تیار نہیں ہے پاکستان کے موجودہ ٹیکس سسٹم بااثر طبقے کی جانب سے غریب طبقے کے لئے ہے80 فیصد بالواسطہ ٹیکس آمدن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غریب لوگ ٹیکس ادا کر رہے ہیں پچیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والا بھی اشیاء ضروریہ پر وہی ٹیکس ادا کر رہا ہے جو 15 لاکھ روپے ماہانہ کمانے والا دے رہا ہے آمدنی کے لحاظ سے ٹیکس لیا جاتا تو پاکستان کی ٹیکس آمدن موجودہ سے بہت مختلف ہوتی دوسری جانب ٹیکس ریبیٹ ریفنڈز اور سبسڈی کی دیگر اقسام بھی متمول طبقے کے لئے ہوتی ہیں غریبوں کے لئے نہیں بجلی گیس اور پٹرول پر دی جانے والی سبسڈی متذکرہ بالا سبسڈیز کے آگے کچھ بھی نہیں ملک میں رائج نظام ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کے بجائے پہلے سے موجود طبقات پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا دیتا ہے پاکستان میں ٹیکس کی شرح سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے کارپوریٹ ٹیکس کی شرحیں و دیگر من مانے ٹیکس پاکستان میں کارپوریشنوں کے لئے موثر ٹیکس کی شرح کو ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر مارکیٹوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں بناتے ملک کی معیشت کو مقامی سرمائے کو متحرک کرنے کی حوصلہ افزائی کرکے ہی بحال کیا جاسکتا ہے اور یہ غیر رسمی معیشت کا حجم کم کرنے رسمی معیشت میں اضافے کے لئے ٹیکسوں کی شرح کم کرنے کاروباری منصفانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش سے ہی ممکن ہے ملک میں غیر معمولی پیمانے پر ٹیکس چوری کی جاتی اور اس میں ادارہ جاتی نااہلی سمگلنگ اور طاقتور صنعتی دھڑوں کیلئے حکومتی مراعات جیسے عوامل ہیں لیکن اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے جو حل ناگزیر ہیں ان پر توجہ کم دکھائی دیتی ہے ملک میں سیلز ٹیکس کی مد میں سالانہ 4 ہزار ارب سے زائد کی چوری ہورہی ہے مگر اس کا سدباب کرنے کیلئے درست اقدامات کے بجائے حکومت کے پاس ٹیکس آمدنی بڑھانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح میںاضافہ کر دیا جائے افراط زر میں سنگل ڈیجٹ پر آنے کے باوجود اس وقت اشیائے ضروریہ پر ٹیکسوں کی بلند شرح مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہے اور المیہ یہ ہے کہ بلاتفریق اس کا اطلاق سبھی شہریوں پر ہوتا ہے ٹیکس پالیسی میں مساوات اور شفافیت پاکستان کے ریونیو شارٹ فال کے مسئلے کو حل کرنے کی بنیاد ہے نااہلیوں کو روکنے اور معیشت کو تقویت دینے کے لئے ٹھوس انتظامی اصلاحات ضروری ہیں آمدنی میں کمی ایک شفاف مساوی ٹیکس پالیسی فریم ورک کی متقاضی ہے ساختی اصلاحات کو ترجیح دی جائے تاکہ نااہلیاں کم، ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کیا جا سکے پاکستان کے لئے ایک اور بڑا چیلنج معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کو برقرار رکھنا ہے ایک مضبوط سیاسی نظام کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا گزشتہ چند سالوں کے دوران سیاسی انتشار نے ملک کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے اس کی مثال پچھلی کئی دہائیوں میں نہیں ملتی اس سیاسی انتشار کی وجہ سے خود سیاسی جماعتیں بہت بڑے خسارے میں ہیں ملک کو اسوقت سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل المدت معاشی پالیسیوں اور میثاق جمہوریت یعنی ایک نئے عمرانی معاہدے کی اشد ضرورت ہے تاکہ سیاسی تبدیلیاں معاشی عمل پر اثر انداز نہ ہوں اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہے یہ کام سیاسی اور ریاستی اداروں کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں تاریخ عالم اس بات کی شاہد ہے کہ جن قوموں نے اپنے وسائل اور امکانات کو درست استعمال کیا وہ ترقی کی منازل طے کرنے لگیں جبکہ ہم قومی زندگی کی پون صدی ناکام تجربات کو دہرانے میں مصروف رہے اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کی ذمہ داری دوسروں پر تھوپ کر حقائق سے نظریں چراتے رہے اب پرانے تجربات کو دہرانے کی مزید گنجائش نہیں ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام طبقات ہائے فکر بالخصوص سیاسی قیادت اپنے ذاتی اور گروہی مقاصد سے باہر نکل کر اور اپنی انا کو پس پشت ڈال کر ملک وقوم کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے یہی ہمارے مسائل کا اصل حل ہے یہ امر مسلمہ ہے کہ مذاکرات اور سیاسی افہام و تفہیم کے بغیر سیاسی اور جمہوری گاڑی چل نہیں سکتی سیاسی ہیجان کم ہوگا تو سماج بھی مضبوط ہوگا اور معیشت بھی تیزی سے مستحکم ہونے لگے گی موجودہ منظر میں پاکستان کے لئے عالمی امکانات کا وسیع ہوتا افق ایک پرکشش موقع بھی ہے اور سخت امتحان بھی ہے ہمیں امید ہے کہ انشاء تعالی سیاسی و عسکری ان امکانات کو داخلی استحکام ادارہ جاتی اصلاحات اور دیر پا معاشی وتجارتی معاہدوں کے لئے بروئے کار لاکر ایک نئے پاکستان کے خواب کو آگے بڑھائے گی**

