کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں متنازعہ انتظامی فیصلہ بااثر افراد کے لیے سہولت، غریب مریضوں کے لیے مشکلات
Share
کراچی (ڈیجیٹل پوسٹ) کراچی جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں انتظامی سطح پر ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ 28 جنوری 2026 کو جاری کردہ دفتری حکم نامے کے تحت ڈاکٹر محمد وقاص ریاض خان، جو پہلے ہی سی ایم او، پی آر او اور میڈیا کوآرڈینیٹر جیسے اہم عہدوں پر فائز ہیں انہیں اعلیٰ حکام کی جانب سے ریفر کیے گئے مریضوں کے داخلے اور تشخیصی معائنوں کے لیے فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے حکم نامے میں تمام شعبہ جات اور یونٹس کے سربراہان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مذکورہ فوکل پرسن کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ تاہم، اس فیصلے پر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ انتظام واقعی عام مریضوں کی سہولت کے لیے ہے یا صرف بااثر اور سفارش شدہ افراد کے لیےذرائع اور شہری حلقوں کے مطابق، اگر کوئی مریض اعلیٰ افسر، بااثر شخصیت یا سیاسی دباؤ کے ساتھ فوکل پرسن کے پاس آتا ہے تو اس کے معاملات فوری طور پر دیکھے جاتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس غریب اور عام آدمی جو بغیر سفارش اور دباؤ کے آتا ہے، وہ اسپتال کے کاؤنٹرز، وارڈز اور دفاتر کے چکر لگاتے لگاتے رل جاتا ہے، اور اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے انتظامات سرکاری اسپتالوں میں دوہرا نظام (Double Standard) پیدا کرتے ہیں، جہاں ایک طرف بااثر افراد کے لیے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور دوسری طرف عام شہری بنیادی علاج کے لیے بھی دربدر ہوتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف طبی اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ آئین میں دیے گئے برابری کے حق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے شہری، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومتِ سندھ اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کا فوری نوٹس لیں، فوکل پرسن سسٹم کا دائرہ اور طریقۂ کار واضح کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جناح اسپتال سمیت تمام سرکاری اداروں میں علاج صرف طبی ضرورت اور میرٹ کی بنیاد پر ہو، نہ کہ سیاسی سفارش یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر

