ایبٹ آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) اغواء لیڈی ڈاکٹر وردا مشتاق کا معمہ مزید گہرا
Share
ایبٹ آباد (ڈیجیٹل پوسٹ) اغواء لیڈی ڈاکٹر وردا مشتاق کا معمہ مزید گہرا— مرکزی ملزمان گرفتار اور اقرار جرم لیکن مغویہ کا ابھی تک سراغ نہ مل سکا
جس کے باعث خاندان اور عوام شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ پولیس نے اغواء کیس میں ملوث مرکزی ملزمہ ردا اس کا شوہر وحید بلا اور مبینہ طور پر اس گھناؤنے فعل میں شامل لڑی بنوٹہ ٹھنڈیانی کے خطرناک ڈکیت و منشیات فروش گروہ کے سہولت کار ندیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے اور اسکی نشاندہی پر اندرون شہر اور بیرون شہر متعدد مقامات پر پولیس کی چھاپہ مار ٹیمیں مغویہ کی برآمدگی کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مغویہ ڈاکٹر کی خیریت و عافیت کے لیے ہر گھر میں دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کیس سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ پولیس تفتیش کے حوالے سے تاحال ایک ہی جواب دے رہی ہے کہ “تحقیقات جاری ہیں”، جبکہ عوام اور اہل علاقہ میں مختلف افواہیں اور چہ میگوئیاں گردش کر رہی ہیں جن کی پولیس نے کسی بھی سطح پر تصدیق نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق گرفتار منشیات فروش گروہ کے کارندوں کی جانب سے ڈاکٹر وردا کو پوش علاقے کے ایک مکان سے سوزوکی کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور قریں قیاس یہ ہے کہ انہیں ق ت ل کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے جب ڈاکٹر کی سہیلی ردا سے اپنے روایتی طریقے سے پوچھ گچھ کی تو اس نے سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا کہ کس طرح ہسپتال سے گاڑی میں لے جانے کے بعد اس نے مقامی بدنام زمانہ ڈکیت و منشیات گروہ کے سہولت کار ندیم کے حوالے کیا۔ اہلِ خانہ خصوصاً ڈاکٹر کے والد انتہائی ذہنی اذیت اور صدمے کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
آئندہ چند گھنٹوں میں پولیس کی جانب سے بڑے بریک تھرو کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم مختلف افواہوں نے عوام کے دلوں میں خوف، بے چینی اور افسردگی پیدا کر دی ہے۔
عوامی حلقے یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایس ایچ او کینٹ اور ان کی ٹیم نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو شاید آج ڈاکٹر وردا مشتاق بازیاب ہو چکی ہوتیں۔ دوسری جانب یہ خدشہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر زندہ بھی ہیں یا نہیں — اس میں کوئی مصدقہ اطلاع تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
دوسری جانب ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر معظم خان نے کہا ہے کہ چار دن گزر جانے کے باوجود ڈاکٹر وردہ کی بازیابی نہ ہونا اداروں کی سنگین نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔
اسی غفلت کے خلاف بطور احتجاج کل بروز سوموار بینظیر بھٹو شہید ہسپتال ایبٹ آباد میں تمام الیکٹو سروسز کا بھرپور اور مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
ڈاکٹرز برادری واضح کرتی ہے کہ ڈاکٹر وردہ کی فوری اور محفوظ بازیابی کے سوا کوئی دوسری بات قابلِ قبول نہیں۔

