LOADING

Type to search

National

خانیوال (ڈیجیٹل پوسٹ) افواج پاکستان کا ھیرو … محکمہ ریونیو خانیوال کے ہاتھوں یرغمال

Share

خانیوال (ڈیجیٹل پوسٹ) خانیوال کے ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک ایسی ملاقات نے میرا دل عجیب طرح سے بھاری کر دیا جسے محض اتفاق کہہ کر بھلا دینا ممکن نہیں۔ ڈاکٹر سلمیٰ سلیمان سے میری براہِ راست ملاقات تو نہ ہو سکی—اسلام آباد کی مصروفیات نے اجازت نہ دی—لیکن ان کے دفتر تک پہنچنے کا سبب ایک ایسا شخص تھا جسے لفظ ہیرو کہنا بھی اس کی عظمت کے آگے چھوٹا پڑ جاتا ہے۔

ریٹائرڈ صوبیدار محمد امیر۔
وہ سپاہی نہیں، پاکستان کی تاریخ کا چلتا پھرتا باب ہیں۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں اپنے لہو سے سرحدوں کی حفاظت کرنے والا وہ سرفروش، جس کے هاتھوں بھارت کے پانچ جنگی طیارے زمین بوس ہوئے۔ وہی محمد امیر جو میجر عزیز بھٹی شہید اور میجر شبیر شریف شہید جیسے سپاہیوں کے ساتھی رہے۔ وہی سپاہی جس کے خلاف بھارت میں آج تک ایف آئی آرز درج ہیں—پانچ بھارتی پائلٹس کی ہلاکت کی کارروائیاں، جن پر بھارت آج بھی تڑپتا ہے۔

ایسے غازی کے ساتھ اگر یہ ریاست انصاف نہ کر سکے، تو پھر سوال محکموں سے نہیں… ہم سب سے بنتا ہے۔

آدھی صدی پر محیط ایک ادھوری کہانی

محمد امیر کو نصف صدی قبل حکومتِ پاکستان نے کبیروالا میں سو کنال زمین الاٹ کی۔ یہ انعام نہیں تھا، اُن کے کارناموں کی معمولی سی اعترافی تحریر تھی۔ آج وہی زمین ان کے لیے عذاب بن گئی ہے۔ صرف اس لیے کہ وہ رشوت دینے کو تیار نہیں۔ قانون کی پاسداری کرنا ان کا جرم ٹھہرا ہے۔

ہفتے میں چار چار مرتبہ خانیوال طلب کیے جانا، گھنٹوں دفتر میں بٹھایا جانا، چائے پلانا، کبھی کھانا کھلا دینا—لیکن کام نہ ہونا۔ یہ طرزِ عمل کسی دشمن ملک کی فوج کا ہوتا تو شاید حیرت نہ ہوتی، مگر یہ سب کچھ محکمہ ریونیو خانیوال میں ہو رہا ہے، اور ایک ایسے شخص کے ساتھ ہو رہا ہے جس نے اپنی زندگی اس ملک کے نام کر دی۔

اصل دکھ یہاں ختم نہیں ہوتا۔
صوبیدار امیر نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر تک درخواست پہنچائی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی خط لکھا۔ جواب آیا کہ “مسئلہ حل ہوچکا ہے”.
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ یہ سرکاری فائلوں میں لکھی گئی ایک ایسی بے رحمی ہے جو صرف جھوٹ نہیں، ریاستی اعتماد پر حملہ بھی ہے۔

ریونیو کی گتھی… اور ایک دستخط کا انتظار

صوبیدار امیر نے اپنے حالات سے متعدد بار اے ڈی سی آر مہر خالد سیال کو بھی آگاہ کیا۔ فائلیں رکھیں، استدعا کی، شواہد دیے۔ مگر وہ گتھی سلجھ نہ سکی۔ نصف صدی پرانی الاٹمنٹ موجود ہے، ریونیو ریکارڈ مکمل ہے، تمام محکماتی رپورٹس مکمل ہیں—صرف ایک دستخط باقی ہے۔ ایک دستخط، جو ایک قومی ہیرو کی زندگی سے نصف صدی کا بوجھ کم کر سکتا ہے۔

سینئر کلرک اصغر علی ہفتہ بہ ہفتہ امید دلاتے رہے—“بس اگلے جمعرات کام ہو جائے گا۔”
مگر یہ جمعراتیں شاید کسی اور تقویم کی تاریخوں میں لکھی تھیں۔

اب ڈاکٹر سلمیٰ سلیمان نے فائل اپنے پرسنل اسسٹنٹ راؤ اسد کو بھیج دی ہے، جنہوں نے پیر کے روز تمام متعلقہ عملے کو طلب کر لیا ہے۔ امید ہے کہ شاید اب وہ لمحہ قریب آ جائے جب ایک بزرگ غازی کو انصاف ملے۔

اصل مسئلہ صرف ایک شخص کا نہیں… ایک نظام کا ہے

یہ صرف صوبیدار امیر کی کہانی نہیں۔ یہ اُن ہزاروں پاکستانیوں کا نوحہ ہے جو سرخ فیتے کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ محمد امیر کوئی عام شہری نہیں، ایک قومی ہیرو ہیں—لیکن ان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا، تو عام آدمی کے ساتھ کیا نہ ہوتا ہوگا؟

ریاستیں عمارتوں سے نہیں، اپنے ہیروز کی عزت سے بنتی ہیں۔
اور ترقی فائلوں پر نہیں، رویوں سے ہوتی ہے۔

ہماری بیوروکریسی میں لاکھوں ایماندار افسر موجود ہیں، لیکن چند ہاتھ اگر ایک غازی کی زندگی کو یوں یرغمال بنا سکتے ہیں تو پھر یہ کمزوری صرف ایک محکمے کی نہیں، پورے نظام کی ہے۔

کاش یہ ملک کبھی اس مقام پر پہنچے جہاں محمد امیر جیسے لوگ درخواستیں لئے دروازوں پر نہ جائیں… بلکہ دروازے ان کے سامنے احترام سے کھلیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »