LOADING

Type to search

National

خانیوال (ڈیجیٹل پوسٹ) لینڈ مافیا کے خلاف ایکشن خانیوال کے اسسٹنٹ کمشنر سے وابستہ امیدیں

Share

خانیوال (ڈیجیٹل پوسٹ) لینڈ مافیا کے خلاف ایکشن خانیوال کے اسسٹنٹ کمشنر سے وابستہ امیدیں

خانیوال کے گاؤں 78 دس آر میں قیمتی سرکاری زمین پر قبضے کے خلاف جاری معرکہ ایک عام انتظامی معاملہ نہیں بلکہ قانون، انصاف اور ریاست کی رٹ کا امتحان ہے۔ یہ معرکہ صرف ایک گاؤں کی زمین کا نہیں بلکہ اُس سوچ اور نظام کا ہے جو برسوں سے طاقتور قبضہ گروپوں کو قانون سے بالاتر سمجھتا رہا ہے۔ خانیوال میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر روہت کمار کے سامنے آج ایک ایسا امتحان کھڑا ہے جو ان کے کریئر کے ہر دوسرے امتحان سے بڑا ہے۔ انہوں نے سول سروس کے امتحان میں ستر سالہ ریکارڈ توڑ کر یہ ثابت کیا تھا کہ محنت اور صلاحیت کے ساتھ کوئی رکاوٹ ناقابلِ عبور نہیں۔ اب ان کے سامنے ایک نیا امتحان ہے—زمین کے اصل مالکوں کو ان کا حق دلوانا اور لینڈ مافیا کو قانون کے کٹہرے میں لانا۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ خانیوال کے اس گاؤں میں برسوں سے قبضہ گروپ کا راج قائم ہے۔ 78 دس آر کی اس قیمتی زمین پر چار بااثر بھائیوں—شوکت، خادم، خیرات اور طالب—کا قبضہ ہے۔ دو مرتبہ اس زمین کی واگزاری کے لیے آپریشن پلان ہوا لیکن ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ناکامی کی وجوہات صاف ہیں: پولیس نفری کی کمی، تحصیلدار کی کمزوری اور دباؤ کے آگے جھک جانا، اضافی نفری طلب کرنے سے گریز، مزاحمت کے دوران پولیس کی خاموشی، اور سب سے بڑھ کر ضلع کونسل خانیوال کا مشینری فراہم کرنے سے انکار۔ جب تک یہ سب ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے مل کر کام نہیں کریں گے، کوئی بھی آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی افسوسناک ہے کہ ہر بار جب زمین واگزار کرانے کی کوشش ہوئی تو مردوں اور عورتوں نے پولیس کے سامنے مزاحمت کی۔ پولیس نے اس مزاحمت کے آگے خاموشی اختیار کی، اور قبضہ گروپ نے اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اس دوران عدالتوں اور ریونیو فورمز میں بھی قبضہ گروپ نے وقت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اب ان کے تمام اسٹے آرڈرز خارج ہو چکے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ قانون کی راہ میں اب کوئی کاغذی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ اب امتحان صرف اعصاب کا ہے۔

یہاں سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ پیرافورس کو بھی اس آپریشن میں شامل کیا جائے تاکہ قبضہ گروپ کو واضح پیغام ملے کہ ریاست کسی صورت پیچھے ہٹنے والی نہیں۔ ضلع کونسل کو تحریری طور پر پابند کیا جائے کہ وہ بھاری مشینری فراہم کرے۔ لیڈی پولیس طلب کی جائے تاکہ خواتین کے ذریعے مزاحمت کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔ سب سے بڑھ کر ایک مضبوط اعصاب کے مالک ریونیو افسر کو یہ ٹاسک دیا جائے تاکہ دباؤ کے باوجود کارروائی جاری رہے۔

اہم ترین تجویز یہ ہے کہ آپریشن سے پہلے ان چاروں بھائیوں کو گرفتار کرلیا جائے جو قبضہ گروپ کے سرغنہ ہیں۔ اگر یہ لوگ گرفت میں آجاتے ہیں تو باقی مزاحمت ازخود دم توڑ دے گی اور مشن کسی بڑی جھڑپ کے بغیر مکمل ہوسکتا ہے۔ یہ موقع ہے کہ خانیوال میں ایک کامیاب آپریشن کے ذریعے باقی پنجاب کے لیے مثال قائم کی جائے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز بارہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہیں کہ پنجاب کو لینڈ مافیا سے پاک کرنا ہے۔ یہ ان کا ویژن ہے اور یہ ویژن صرف کاغذوں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات میں جھلکنا چاہیے۔ اگر خانیوال جیسے حساس اور مشکل کیس میں کامیابی مل جاتی ہے تو یہ پیغام پنجاب کے ہر کونے تک جائے گا کہ حکومت کی پالیسی برائے زمین واگزاری صرف دعووں تک محدود نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

اب فیصلہ اسسٹنٹ کمشنر روہت کمار کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس طرح سول سروس امتحان میں ریکارڈ قائم کر کے آگے بڑھے تھے، اسی طرح اگر اس امتحان میں بھی پورے اترے تو ان کا نام صرف خانیوال ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب میں یاد رکھا جائے گا۔ ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ قبضہ گروپ کے خلاف سخت اور فیصلہ کن ایکشن لیں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ قانون کے سامنے کوئی طاقتور نہیں۔

یہ کالم کسی سیاسی نعرے کا نہیں بلکہ اس امید کا عکاس ہے کہ پنجاب میں ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے—جہاں زمین اصل مالک کو ملے گی اور قبضہ گروپوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب یہ وقت ہے کہ وعدے حقیقت کا روپ دھاریں اور خانیوال سے ایک نئی کہانی لکھنے کی شروعات ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »