LOADING

Type to search

National

رحیم یارخان (ڈیجیٹل پوسٹ) اے ڈی سی جی عرفان انور اور فرنٹ مین وحید سردار کے خلاف کرپشن کی ایف آئی آر، میاں امتیاز احمد کو دفتر سے نکالنے کی کوشش، شہریوں کا شدید ردعمل

Share

رحیم یارخان (ڈیجیٹل پوسٹ) اے ڈی سی جی عرفان انور اور فرنٹ مین وحید سردار کے خلاف کرپشن کی ایف آئی آر، میاں امتیاز احمد کو دفتر سے نکالنے کی کوشش، شہریوں کا شدید ردعمل

رحیم یار خان میں تعینات ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (اے ڈی سی جی) عرفان انور ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ان کے خلاف اینٹی کرپشن میں اس سے پہلے بھی ایف آئی آر درج ہو چکی ہے جس میں مالی بے ضابطگیوں، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ اس ایف آئی آر میں ان کے قریبی ساتھی اور مبینہ فرنٹ مین وحید سردار کا نام بھی موجود ہے، جو مختلف معاملات کے لیے پیسے وصول کرتا رہا۔ ذرائع کے مطابق وحید سردار نے تفتیش کے دوران یہ تسلیم بھی کیا کہ وہ عرفان انور کے لیے رقوم اکٹھی کرتا تھا۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے پسِ منظر کے باوجود عرفان انور کا اہم عہدے پر تعینات رہنا حکومت پنجاب کے گڈ گورننس ایجنڈے کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ ان کی پالیسیوں کے باعث میونسپل کمیٹی کے ترقیاتی منصوبے اور عوامی سہولتوں کے اقدامات رُکے پڑے ہیں۔ انجمن تاجران اور دکانداران حکومت پنجاب کی پالیسیوں جیسے صاف ستھرا پنجاب مہم اور تجاوزات کے خاتمے میں تعاون کر رہے ہیں، مگر عرفان انور ان ہی جائز اقدامات کو متنازعہ بنا کر عوام کو حکومت کے خلاف کر رہے ہیں۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب آج سرکاری دفتر میں سابق ایم این اے میاں امتیاز احمد کے ساتھ عرفان انور نے غیر شائستہ رویہ اختیار کیا اور انہیں دفتر سے نکل جانے کو کہا۔ شہریوں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف عوامی نمائندوں کی توہین ہے بلکہ براہِ راست عوام کے ساتھ زیادتی بھی ہے۔

واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے میاں امتیاز احمد نے کہا:
“اگر ایک ایم این اے یا سابق عوامی نمائندے کے ساتھ اے ڈی سی جی کا یہ رویہ ہے تو عام عوام کے ساتھ اس کا سلوک کیسا ہوگا؟”

انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر عوام کے لیے کھلے ہوتے ہیں، نہ کہ عوامی رہنماؤں اور شہریوں کی تذلیل کے لیے۔

اسی سلسلے میں میاں امتیاز احمد نے آج ایک اہم پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے دفتر میں پیش آنے والے واقعے کو تفصیل سے بیان کیا اور عرفان انور کی رکاوٹوں اور کرپشن کے معاملات کو عوام کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ عوامی مسائل اجاگر کرتے رہیں گے مگر عرفان انور جیسے افسران شہر کے امن کو نقصان پہنچا کر عوام کو حکومت کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شہری و سماجی حلقوں نے میاں امتیاز احمد کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب اگر ایسے متنازعہ افسران کے خلاف فوری کارروائی نہ کرے تو عوامی اعتماد مجروح ہوگا اور گڈ گورننس ایجنڈا کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ عوامی و سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ عرفان انور اور اس کے فرنٹ مین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف اور حکومت کو شفاف ساکھ فراہم ہو سکے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »