اسلام آباد(ڈیجیٹل پوسٹ) ڈی ایم اے ایڈورٹائزمنٹ مافیا گٹھ جوڑ 200 ہورڈنگ بورڈز 80 بس شیلٹرز کروڑوں کا ہیر پھیر ملوث کون؟
Share
DMA
ایڈورٹائزمنٹ مافیا گٹھ جوڑ 200 ہورڈنگ بورڈز 80 بس شیلٹرز کروڑوں کا ہیر پھیر
ملوث کون؟
طویل عرصے سے گمراہ کن اسٹے آرڈرز بنیاد بنا کر ایم سی آئی/یونین کونسلز مافیا ٹیکس کے بجائے رشوت وصول کر رہا ہے۔زرائع
اوپن سپیس،روف ٹاپ غیر قانونی استعمال سے ماہانہ کروڑوں وصولیاں ڈی ایم اے،بی سی ایس گینگ ملوث
جی 10 بازار فی اسٹال تین لاکھ لیکر غیر قانونی توسیع کی اجازت آپ نے دی؟ یہ گاڑی انہیں پیسوں سے خریدی ہے۔ڈپٹی ڈرئیکٹر ڈی ایم اے جواب
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد اور ڈرئیکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن میں روٹیشن پالیسی کے بر خلاف آؤٹ آف ٹرن ترقی پاکر اٹیچمنٹ پر طویل عرصے سے اہم عہدوں پر تعینات اہلکاروں نے منظم مافیا کا روپ اختیار کر لیا ہے،شہر اقتدار کے مختلف علاقوں 26 نمبر،ائی جے پی روڈ،تڑامڑی چوک،کھنہ پل،سٹی سرکل میں نصب غیر قانونی بس شیلٹرز اور غیر قانونی ایس ایم ڈیز سے ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے زرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے سرکاری اراضی عمارتوں کی چھتوں پر نصب بڑے بورڈز کو غیر قانونی قرار دیکر شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کے احکامات پر ایم سی آئی نے 200 کے قریب ہورڈنگز بورڈز کو غیر قانونی قرار دیکر فیس اور ٹیکس وصولی سے انکار کر دیا تھا تاہم یہ تمام بورڈز شاہراہوں سے ہٹانے کے بجائے ان پر غیر قانونی تشہیر کی اجازت دیکر ٹیکس اور فیس کے بجائے رشوت وصول کی جا رہی ہے،اسی طرح سٹی سرکل میں رفاع عامہ کی آڑ میں خالصتاً ایڈورٹائزنگ مہمات کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ روٹ سے ہٹ کر بنائے گئے 80 بس شیلٹرز سے بھی ماہانہ لاکھوں روپے ٹیکس کے بجائے عدالتوں کو گمراہ کرکہ طویل عرصہ قبل حاصل کیئے گئے غیر اسٹے آرڈرز کو بنیاد بنا کر حصہ وصول کیا جارہا ہے،زرائع کے مطابق مخصوص یونین کونسلز میں طویل عرصے سے تعینات سیکرٹریز مافیا ایم سی آئی اور ڈی ایم اے گینگز سے ملکر دیو قامت ہورڈنگز بورڈز سے ماہانہ کروڑوں روپے رشوت وصول کر رہے ہیں اسی طرح ڈی ایم اے لٹیرا گینگ سٹی سرکل میں غیر قانونی بس شیلٹرز اور ایس ایم ڈیز سے ماہانہ لاکھوں روپے روپے وصول کر رہے ہیں اور فیس اور محصولات کے بجائے رشوت وصولی کو ترجیح دی جا رہی ہے،زرائع کے مطابق جان بوجھ کر اوپن اسپیس کی بروقت پالیسی نہ بننے کی وجہ سے شہر بھر میں ایک سال تک اوپن اسپیس الاٹ نہیں کی جا سکی اور غیر قانونی تجاوزات سے کروڑوں روپے رشوت لی جا رہی ہے زرائع کے مطابق شہریوں کی اوپن سپیس سے متعلق درخواستوں پر سست روی سے پسند ناپسند کی بنیاد پر بھاری رشوت لیکر عملدرآمد کیا جا رہا ہے،اسی طرح بڑے تجارتی مراکز میں روف ٹاپ پر کاروباری سرگرمیوں سے متعلق پالیسی وضع نہ کرنے اور غیر قانونی استعمال سے ڈی ایم اے اور بی سی ایس انسپکٹرز ماہانہ کروڑوں روپے رشوت وصول کر رہے ہیں،سیکٹر ایف سکس،ایف سیون،ایف ٹین،ایف الیون،ائی ایٹ اور دیگر سیکٹرز میں روف ٹاپ پر غیر قانونی کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں،چیف کمشنر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد آفس کے سامنے گرین بیلٹ پر بنے ہفتہ وار سستہ بازار میں لاکھوں روپے رشوت لیکر اسٹالز کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق ڈیلی ڈیجیٹل پوسٹ نمائندے نے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈی ایم اے سے اسٹالز کی الاٹمنٹ سے متعلق سوال کیا کہ کیا آپ نے تین لاکھ روپے فی اسٹال رشوت لیکر غیر قانونی توسیع کی اجازت دی جس پر انہوں نے پاس کھڑی گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گاڑی انہوں نے اسی رشوت کے پیسوں سے حاصل کی ہے زرائع کے مطابق ڈرئیکٹر ڈی ایم اے نے 2019 میں میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کے سستے بازار کی غیر قانونی توسیع کے احکامات پر عملدرآمد کا حکم دیا اور غیر قانونی اسٹالز بنانے کی اجازت دی ہے، ڈیجیٹل پوسٹ پر اسکینڈل کی اشاعت کے بعد بازار کی غیر قانونی توسیع میں ملوث ڈپٹی ڈائریکٹر ڈی ایم اے کے احکامات پر انکے ماتحت اسٹنٹ ڈائریکٹر ڈی ایم اے کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اسٹنٹ ڈائریکٹر ڈی ایم اے نے ڈیجیٹل پوسٹ کو بتایا کہ انہوں نے بازار کا وزٹ کیا ہے جلد رپورٹ مرتب کر لی جائے گی،ڈی ایم اے کے ایک ذمہ دار آفیسر نے ڈیجیٹل پوسٹ کو بتایا کہ فرض کریں میئر اسلام آباد کے احکامات پر پانچ سال بعد عمل کیا گیا ہو تب بھی توسیع غیر قانونی ہے کیونکہ توسیع سے قبل سی ڈی اے پلاننگ اینڈ انجینئرنگ ونگ اور انوائرمنٹ ونگ سے این او سی حاصل کرنا ضروری تھا جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ گرین بیلٹس پر کاروباری سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے،زرائع کے مطابق سی ڈی اے کے انفورسمنٹ، انوائرمنٹ انسپکٹرز نے گرین بیلٹ پر اسٹالز کی غیر قانونی تعمیر پر رپورٹ درج نہیں کی،ڈرئیکٹر ڈی ایم اے فرضی انکوائری کرکہ اصل ذمہ داران کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں اس انتہائی اہم معاملے میں وفاقی ضلعی انتظامیہ،سی ڈی اے انوائرمنٹ،انفورسمنٹ، انکروچمنٹ،ایم سی آئی افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیکر شفاف انکوائری کروائی جانی چاہئے تاکہ اصل ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے








